فرقہ خانہ حکمت کالعدم تنظیم پر شیعہ امامیہ اسماعیلی کونسل اور حکومت کی پابندی

جب بالخصوص تاویل کی بات ہوتی ہے تو تاویل کا تعلق مذہب کی بنیاد سے ہے جو امام علیہ السلام کے ذریعے ہوتی ہے ، اور یہ حق صرف امام علیہ السلام کو حاصل ہے، نیز اس کی مستند حیثیت ہونا لازمی ہے۔ اسی وجہ سے امامتی اداروں، اسماعیلی طریقہ بورڈ اور انسٹی ٹیوٹ آف اسماعیلی اسٹڈیز کے ذریعے جو تاویلی تعلیمات ہم تک پہنچتی ہیں، وہ مستند لٹریچر، فرامین اور مکمل تاریخی پس منظر کی روشنی میں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے تاویل یا فرمان شائع نہیں کر سکتا۔

الغرض، دین کو ہم صرف اسی صورت میں منتقل کر سکتے ہیں جس صورت میں وہ موجود ہے، یعنی ادارہ جاتی کتب کے ذریعے دین کو سمجھا اور پڑھا جائے۔ کسی خودساختہ کالعدم تنظیم یا کسی بھی تنظیم کو یہ اجازت نہیں کہ وہ شعیہ امامیہ اسماعیلی مکتبِ فکر میں نیا دین ایجاد کرے۔ بلکہ ایسا عمل امام علیہ السلام کے فرامین کے مطابق انسان کو الحاد، یعنی ملحد ہونے کی طرف لے جاتا ہے، اور اسے دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ انہی فرامین کو ہم مسلسل اپنے دوستوں کی خدمت میں پیش کرتے رہے ہیں۔

کونسل کے جن ممبران کو ہم نے مقرر کیا ہے، اور جنہوں نے قواعد و قوانین مرتب کیے ہیں، جو شخص ان قوانین اور ضابطوں کو توڑتا ہے وہ شیطان ہے اور ناستک، یعنی ملحد ہے (یعنی دائرۂ اسلام سے خارج ہے)۔

کلام امام مبین فرمان 132

یہ فرمان امام علیہ السلام کے دین کے تناظر میں ہے جس میں مختلف تشریحات و تاویلات کی گنجائش نہیں چونکہ لفظ قانون اور قاعدہ استعمال ہوا ہے الغرض دیگر اداروں سے اختلاف رکھنے کے زمن فرامین موجود ہیں جیسے رفاعی امور میں خدمات انجام دینے والے اداروں سے آپ اپنا اختلاف رکھ سکتے ہیں جن پر امام علیہ السلام کے فرامین ہیں کہ

اگر کاؤنسل دیانت داری سے اپنا کام انجام نہ دیں تو ان کا انجام دین کے دشمنوں کے ساتھ کیا جائے گا جنھوں نے امام علی علیہ السلام کی امامت کو غضب کیا

کلام امام مبین 132

یہ دونوں فرامین ایک فرمان میں ہے جس سے ظاہر ہے کہ کاؤنسل میں رفاعی امور انجام دینے والے اداروں کا مرتبہ اور طریقہ بورڈ کا مرتبہ ان میں فرق ہے چونکہ دین میں ابہام کی گنجائش نہیں اس وجہ سے طریقہ بورڈ کی تاویلات کے مقابل تاویلات لانا یا من گھڑت تشریحات ایجاد کرنا دین میں اختلاف کا باعث ہے اس وجہ سے انسان کو الحاد یعنی دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے

جبکہ کاؤنسل کے رفاعی اداروں کا کام دنیاوی لحاظ سے ہوتا ہے جس میں دنیاوی تقاضا شامل ہوتا ہے اس بنا پر گناہ ہو سکتا ہے ممبران سے اس نتیجہ میں ان کا حشر دشمنان اسلام کے ساتھ ہوگا

لیکن دینی امور میں طریقہ بورڈ امام علیہ السلام کی تاویلات پہنچاتا ہے جس میں اختلاف کرنا اور خود ساختہ تشریحات و تاویلات گھڑنا دین میں ابہام پیدا کرنے والا معاملہ ہے اور سخت قسم کا گناہ ہے جس پر ہم نے واضح فرامین پیش کیے کہ ایسا گناہ انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے

براہِ کرم شیعہ امامی اسماعیلی ریجنل کونسل کا لیٹر ملاحظہ فرمائیں۔

شیعہ امامی اسماعیلی کونسل برائے گلگت نہایت افسوس کے ساتھ یہ اعلان کرتی ہے کہ نصیر الدین ہنزائی کی کتب اور خانۂ حکمت کی جانب سے شائع شدہ کتابوں کے بارے میں، جو منظرِ عام پر آ گیا ہے ان میں موجود مواد نہ صرف اسماعیلی عقائد و نظریات کی نفی کرتا ہے بلکہ دینِ اسلام کے بنیادی عقائد سے بھی متصادم ہے۔ مزید برآں، دین کی تشریح کے حوالے سے حاضر امام کے بنیادی اختیار کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، جو کہ اسماعیلی آئین کی واضح خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا یہ امر بالکل واضح ہے کہ اس قسم کی تشریحات سے اسماعیلی طریقہ اور اسماعیلی جماعت کا کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ اسماعیلی طریقے کے مطابق صرف وہی تشریحات قابلِ قبول ہو سکتی ہیں جن کی اشاعت امام کے منتخب اداروں کے ذریعے کی گئی ہو۔ اسی بنا پر نصیر ہنزائی اور خانۂ حکمت کی جانب سے شائع شدہ مواد سے مکمل اعلانِ برأت کا اظہار کرتے ہوئے، نامزد اسماعیلی کونسل، گلگت ، اپنے آئینی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے حضور میں اس مواد پر مکمل پابندی عائد کرتی ہے۔ نیز اسلام کی ہماری دوسری برادریوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ یقین کریں کہ مذکورہ مواد سے اسماعیلی طریقہ اور اسماعیلی جماعت کا کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح جماعت سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس قسم کے مواد اور تشریحات سے لاتعلق رہے۔

شیعہ امامی اسماعیلی ریجنل کاؤنسل گلگت

پریسڈینٹ جناب ظفر اقبال

الغرض فرقہ خانۂ حکمت کی جانب سے جو تاویلات شائع کی گئیں، ان کے بارے میں اداروں کی جانب سے باقاعدہ خط (لیٹر) جاری کیا گیا ہے کہ ان کا اسماعیلی مکتبِ فکر سے کوئی تعلق نہیں۔

البتہ اگر کوئی شخص امامِ وقتؑ کے اداروں کے تحت شائع شدہ کتب پیش کرے، تاویلات جو ہمارے داعیان کی ہیں، ان سے گفتگو کریں تو ہم اس کے اس عمل کو بھی سراہیں گے

دین کا بیان کرنا امامِ عالی مقام علیہ السلام کے فرامین کے مطابق ایک ضروری امر ہے، لیکن یہ بیان صرف اور صرف امامِ عالی مقام علیہ السلام کے اُن اداروں کی شائع شدہ کتب اور مستند ادارہ جاتی لٹریچر کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ جب معاملہ تاویل کا ہو تو کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے، امامی اداروں سے ہٹ کر، خود ساختہ تاویل پیش کرے یا اسے شائع کرے۔ ایسا طرزِ عمل امامی دستور کانسٹیٹیوشن، آئین اور فرامینِ امام علیہ السلام کے صریح خلاف ہے۔

امامِ عالی مقام علیہ السلام کے فرامین کے مطابق اس نوعیت کا عمل الحاد کے زمرے میں آتا ہے، جو انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

ہمیں کسی شخص سے ذاتی عناد نہیں، لیکن یہ قابلِ قبول نہیں کہ کوئی ایک طرف امن و رواداری کی بات کرے اور دوسری طرف امامِ عالی مقام علیہ السلام کے اداروں کے مقابل ایک متصادم تنظیم قائم کر کے دین میں انتشار پیدا کرے، خصوصاً جب امامی ادارے اور ملکی قانون ایسی تنظیم کو کالعدم قرار دے چکے ہوں، اور کونسلوں کی جانب سے نصیر ہنزائی کو مکتب سے خارج قرار دیا جا چکا ہو۔

امامِ عالی مقام علیہ السلام کا واضح فرمان موجود ہے کہ جو شخص طریقہ بورڈ کے متوازی یا متصادم کوئی تنظیم قائم کرے اور تاویل کے نام پر دین کو جاری کرے، وہ سخت مجرم، ملحد اور اسلام سے خارج شمار ہوتا ہے۔

اسماعیلی کانسٹیٹیوشن یعنی آئین کے مطابق فرمان اس حکم، ہدایت یا فیصلے کو کہتے ہیں جو صرف مولانا حاضر امام کی جانب سے صادر ہو (آرٹیکل 2.2)۔

دینی تحقیق اور دینی کتب و مواد کی اشاعت صرف اسماعیلی و دینی تعلیم بورڈ اسماعیلی طریقہ ریلیجس ایجوکیشن بورڈ کے اختیار میں ہے، اور یہ ادارہ براہِ راست امامِ وقت کی ہدایت اور نگرانی میں کام کرتا ہے (آرٹیکل 8.1 اور 8.4 )۔

کسی بھی فرد یا ادارے کو امامِ وقت، اسماعیلی طریقت یا فرمان کے نام سے کوئی مواد چھاپنے، شائع کرنے کی اجازت نہیں، اور ایسا کرنا آئینی خلاف ورزی ہے (آرٹیکل 8.1 اور 8.4 )

اس کے علاوہ امام سلطان محمد شاہ علیہ السلام نے فرمایا

جو شخص ہمارے قائم کردہ ادارہ جاتی فیصلوں کی خلاف ورزی کرے، وہ ملحد ہے، یعنی دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

کلامِ امامِ مبین، فرمان نمبر ۱۳۲

FARMAN MUBARAK FROM KALAM IMAM E MUBEEN VOL 1
ABOUT INSTITUTIONAL MANDATE RELATED TO TARIQAH BOARD FOR INSTITUTIONAL LITERATURE AND PUBLICATION

جس طرح نصیر ہنزائی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ تمام داعیوں اور پیروں سے افضل ہیں، اور یہ کہ نور صرف انہیں ہی حاصل ہوا ہے اور کسی اور کو نہیں، اسی طرح فقیر ہنزائی کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ نصیر ہنزائی تمام امامتی اداروں سے افضل ہیں۔

اسی بنا پر خانۂ حکمت سے شائع ہونے والی اُن کتب میں فرامین اور دین کی تاویل کے اختیار کو چیلنج کیا گیا، جو کہ امامتی نظم و ضبط اور مسلمہ دینی اصولوں کے خلاف ہے۔

Leave a comment

Copyright © 2026 by Shia Imamia Ismailia. All rights reserved.