دَورِ سَتر اور شیعہ امامیہ اسماعیلیہ

شِیعہ اِمامیہ اسماعیلیہ ہر زمانے میں ایک حاضر اِمام کے قائل ہیں۔ دَورِ سَتر کی طرف جب اشارہ کیا جاتا ہے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سَتر کا مطلب غیبت نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ زمانہ مراد ہے جب حقیقتاً اِمامؑ کے لیے مصیبت اور قتل کا اندیشہ موجود رہا، جیسا کہ عباسی حکمرانوں کے دور میں ہوا۔ اس زمانے میں جو بھی اگلا وصی امام ہوتا، اُس کو حکومت یعنی طاغوت کی طرف سے قتل کا حکم دیا جاتا۔

اسی پس منظر میں اِثنا عشریہ کا عقیدہ ہے کہ اِمام جعفر صادق علیہ السلام نے پانچ وصی نامزد فرمائے تاکہ اصل وارث امام کو قتل نہ کر دیا جائے۔ اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ دور تسلسلِ امامت کے لیے خطرناک تھا، اور اس کی نفی قطعاً نہیں کی جا سکتی۔

اگر اُن پانچ اَوصیا کے ناموں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے:

  • خود عباسی خلیفہ ابو دوانقی، ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو قتل کرنے سے رہا۔
  • مدینہ کا والی گورنر محمد ابنِ سلیمان، جو اُس کا ساتھی تھا، اُس کو بھی وہ قتل کرنے سے رہا۔
  • حمیدہ خاتون، جو اِمامؑ کی زوجہ تھیں، اُن کو بھی وہ قتل کرنے سے رہا کیونکہ امامت کے لیے عورت کا ہونا شرطِ امام کے خلاف ہے۔
  • باقی بچے دو فرزند: عبداللہ افطح اور موسیٰ بن جعفرؑ۔

اب ظاہر ہے کہ انہی دونوں کو قتل کیا جا سکتا تھا۔ اگر امامؑ نے کسی ایک کا نام وصی میں درج فرما بھی دیا تو کیا مضائقہ ہوا؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پانچوں وصی حقیقی امام نہ تھے بلکہ اصل امام وہی تھے جن پر نصوص موجود ہیں، یعنی حضرت اِسمٰعیل علیہ السلام۔ اس حقیقت کا تفصیلی ذکر خود اِثنا عشری مصادر میں بھی ملتا ہے۔ اگر امامؑ نے جان کے خطرے کے پیش نظر اصل وارث کا نام ظاہر نہ کیا تو پھر سوال یہ ہے کہ موسیٰ بن جعفر کا نام کیوں لیا گیا؟ جب عباسی ایک امام کو قتل کر سکتے تھے تو دو فرزندوں کو قتل کرنا کون سا مشکل امر تھا؟ اس سے ثابت ہوا کہ دونوں باقی ماندہ فرزند، یعنی عبداللہ ابنِ جعفر اور موسیٰ ابنِ جعفر، حقیقی امام نہ تھے۔

دَورِ سَتر اور شیعہ امامیہ اسماعیلیہ

اِس کے بعد جب دَورِ سَتر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شِیعہ اِمامیہ اِسمائیلیہ میں اس زمانے میں تین امام ایسے گزرے جن کے مستودَع (یعنی حجاب میں رہنے والے نائبین) تھے۔ یہ حضرات امام کی جانب سے دین کی تبلیغ و تبیین کے ذمہ دار تھے اور ان کو داعی الاکبر کا درجہ ملا۔ ان کے حالات کی تفصیل کتاب نورِ مبین میں موجود ہے۔

یہ نظام اِثنا عشریہ کے غیبتِ صغریٰ سے مشابہ ہے، جہاں چار نوابِ خاص کے ذریعے دین کی تبلیغ ہوتی رہی، لیکن اِسمائیلیہ میں فرق یہ رہا کہ یہ سلسلہ صرف محدود نواب تک نہیں رکا، بلکہ تسلسل کے ساتھ ہر زمانے میں امام کے نائبین سے براہِ راست دین کی تبیین ہوتی رہی۔ جبکہ اِثنا عشریہ کے نزدیک غیبتِ کبریٰ کے بعد امام سے مکمل رابطہ منقطع ہو گیا، جو تشیع کے بنیادی نظریۂ امامت کے خلاف ثابت ہوتا ہے۔

سلسلۂ اَئمہ علیہم السلام اور دُعات

دَورِ سَتر میں:

  • امام وافی احمد علیہ السلام کے زمانے میں حضرت حسین بن محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق علیہ السلام مستودع قرار پائے اور انہوں نے امام کی طرف سے دین کی تبیین فرمائی۔
  • پھر امام تقی محمد علیہ السلام کے دور میں اُن کے مستودع شہزادہ علی بن وافی احمد تھے۔ اس زمانے میں اِخوان الصفاء کے باون رسائل بھی پیش کیے گئے جو دراصل امام علیہ السلام کے داعیان و فدائیوں کی علمی کاوش تھی۔

اس کے بعد:

  • داعی حرمازواران کے فرزند داعی مہدی، داعی سرحان بن رستم، داعی عمران، اور داعی ابو ترمذی نے امامت کے سلسلے میں تبلیغ کا کام کیا۔ یہ سب اسماعیلی شِیعہ فدائی اور داعی تھے جنہوں نے اپنے نام ظاہر نہیں کیے بلکہ تحقیقی رسائل کے ذریعے دین کی ترسیل کی۔
  • پھر یہ سلسلہ امام رَضی الدین عبداللہ علیہ السلام تک پہنچا جن کے داعی محمد ابو القاسم بن فرح بن حوشب مشہور داعی الاکبر تھے۔
  • بعد ازاں داعی ابو عبداللہ نے مغربی افریقہ میں اسماعیلی دعوت کو پھیلایا، جس کے نتیجے میں دین کو بڑا فروغ ملا۔

یوں عباسی حکومت کمزور پڑنے لگی اور آخرکار امام محمد بن عبداللہ المہدی علیہ السلام نے ظہور فرمایا۔ چونکہ ان کا نام محمد اور ان کے والد کا نام عبداللہ تھا، اس لیے آپ کا لقب مہدی ہوا۔ آپ پہلے فاطمی خلیفہ بنے اور قاہرہ و افریقہ میں حکومت کا آغاز فرمایا۔

نتیجہ

یہ تمام تفصیل اس امر کو واضح کرتی ہے کہ اسماعیلی شِیعہ مکتب میں کبھی بھی ایسا کوئی دور نہیں آیا جس میں تسلسلِ امامت منقطع ہوا ہو۔ ہر زمانے میں امامِ وقت موجود رہا اور ان کے نائبین کے ذریعے دین کی تبیین ہوتی رہی۔

اس کے برعکس اثنا عشریہ میں غیبتِ کبریٰ کے بعد یہ عقیدہ رہا کہ امام سے براہِ راست رابطہ منقطع ہے، جس کے نتیجے میں ہر مجتہد کے الگ الگ فتوے وجود میں آئے اور اتحاد و اطاعت کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اِثنا عشری امامت جعلی اور غیر معتبر ثابت ہوتی ہے کیونکہ کیا اثنا عشری میں تین سو تیرہ فقط ایران میں مجتہدین نہیں جن کی وجہ سے ان کے امام کی غیبت طول پا رہی ہے یہ وہ براہ راست اشکالات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ حسن عسکری کے فرزند نہیں تھے وہ بنا اولاد کے دنیا سے رخصت ہوئے جس کی گواہی ان ہی کے بھائی جعفر ابنِ علی نقی نے دی تھی ان ہی کتب کے تحت، جبکہ اسماعیلی شِیعہ ہر دور میں ایک ہی امامِ زمانہ پر متفق رہے ہیں۔

Leave a comment

Copyright © 2026 by Shia Imamia Ismailia. All rights reserved.