بارہ اماموں کے ناموں پر مشتمل روایات کا تحقیقی جائزہ: ایک شیعہ امامیہ اسماعیلیہ نقطہ نظر
یہ ایک عام خیال ہے، بالخصوص اثناعشری مکتب فکر میں، کہ بارہ اماموں کے نام ہمیشہ سے شیعہ مکتب میں معلوم تھے۔ اگرچہ ہم نے اس تصور کو پہلے ایک اور مضمون میں رد کیا ہے، لیکن اس مضمون میں، ہم اس دعوے کے مضبوط ترین دلائل پر ایک نظر ڈالیں گے۔ یہ دلائل، ظاہر ہے، وہ روایات ہیں جن میں اماموں کی یہ فہرستیں شامل ہیں۔
ان قارئین کے لیے یہ حیران کن نہیں ہونا چاہیے جنہوں نے ہمارے مذکورہ بالا مضمون کو پڑھا ہے کہ ابتدائی شیعہ معاشرے میں اماموں کی مکمل فہرست کا تصور اجنبی تھا۔ اس کا سب سے واضح ثبوت یہ ہے کہ ہر امام کی وفات پر شیعہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوتے رہے، کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اگلا امام کون ہے۔ تاہم، بارہویں امام کی غیبت کے بعد ہی اثناعشریوں کے پاس اپنی مکمل فہرست تھی، اور تب ہی انہیں غلطی میں پڑنے کے خوف کے بغیر ان روایات کو گھڑنے کی آزادی ملی۔
ان روایات کے ماخذ کے بارے میں عمومی معلومات
اگرچہ اثناعشری یہ فرض کرتے ہیں کہ یہ روایات بہت زیادہ اور ناقابل تردید ہیں، ذیل میں، ہم قارئین کو ان روایات کی اصلیت سے آگاہ کریں گے۔
ان روایات کو قبول کرنے میں سب سے زیادہ دشوار مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اماموں کے زمانے کے بعد تک دستاویز نہیں کی گئی تھی۔
ان ماخذوں میں سب سے قدیم الکلینی کی “الکافی” ہے، جن کا انتقال چوتھی صدی ہجری میں سال 329 ہجری میں ہوا۔ الکافی، جو کہ سب سے اہم اثناعشری حدیث کی کتاب ہے، میں صرف دو ایسی روایات شامل ہیں جن میں تمام اماموں کے نام ہیں، اور ہم مضمون میں آگے ان کا جائزہ لیں گے۔
ان روایات کا دوسرا ماخذ ابن بابویہ ہے، جسے الصدوق کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جن کی روایات بھی قابلِ غور ہیں، کیونکہ اثناعشری مکتب میں اس شخص کا بڑا مقام ہے، اور جیسا کہ ہم ذیل میں دیکھیں گے، احادیث میں واضح ہیرا پھیری کی گئی ہے۔
بارہ اماموں کے ناموں کی روایات کا تیسرا اور سب سے اہم ماخذ الصدوق کے شاگرد، الخزاز القمی کی “کفایۃ الاثر” ہے، جو تقریباً تیس روایات بیان کرتے ہیں۔
الکافی میں روایات
دونوں روایات الکافی میں “بارہ کی تقرری کے باب” سے ہیں۔
پہلی روایت احمد بن محمد بن خالد البرقی کی ابی ہاشم الجعفری سے امام الجواد کے حوالے سے مشہور روایت ہے۔ خوش قسمتی سے، البرقی کی “المحاسن” 2/333 بچ گئی ہے، اور وہی روایت کتاب کے اندر کچھ مختلف حالتوں کے ساتھ مل سکتی ہے۔ اس میں تمام اماموں کے نام شامل نہیں ہیں۔ اس میں صرف علی، الحسن، اور الحسین کے نام شامل ہیں، اور یہ البرقی کے بعد آنے والے راویوں کی طرف سے جعل سازی کا ثبوت ہے۔
دوسری روایت بکر بن صالح کی عبدالرحمن بن سالم سے، ابی بصیر کے حوالے سے ہے کہ امام صادق (ع) نے انہیں بتایا کہ جابر نے ایک لوح پر بارہ اماموں کے نام دیکھے، پھر انہوں نے اماموں کے نام اور ان کے بارے میں کچھ تفصیلات درج کیں۔ یہ روایت بکر بن صالح کی وجہ سے مسئلہ دار ہے جسے النجاشی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
اس روایت میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے امام صادق علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا۔ وہ امام محمد باقر علیہ السلام کی آمد کے منتظر تھے، اور اس ضمن میں احادیث بھی موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تم میرے فرزند سے ملو گے جس کا نام باقر ہوگا۔ یہ پیشین گوئی متعدد کتب میں موجود ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابی جابر بن عبداللہ انصاری سے فرمایا: “اے جابر! میرے اس فرزند (امام حسین) کی نسل سے ایک بچہ پیدا ہو گا جو علم و حکمت سے بھرپور ہو گا۔ اے جابر تم اس کا زمانہ پاؤ گے اور اس وقت تک زندہ رہو گے جب تک وہ روئے زمین پر نہ آ جائے۔ اے جابر! دیکھو، جب تم اس سے ملنا تو اسے میرا سلام کہہ دینا۔”
اسی طرح اس حدیث کے آخر میں فٹ نوٹ پر شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین و تمام النعمة میں لکھا گیا ہے کہ یہ حدیث لوحِ فاطمہ سلام اللہ علیہا والی ضعیف ہے کیونکہ امام باقر علیہ السلام نے 114 یا 116 ہجری میں اس دنیا سے رحلت فرمائی اور جابر بن عبداللہ الانصاری کا انتقال 77 ہجری میں ہو چکا تھا۔ اس وجہ سے آپ نے امام صادق علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا۔
رسول اللہ ﷺ کا پیغام اور جابر کی ملاقات
جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے اس پیشین گوئی کو کمال مسرت کے ساتھ سنا اور اسی وقت سے اس مبارک گھڑی کا انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ آپ کی بینائی چلی گئی۔ جب بینائی جاتی رہی تو زبان سے پکارنا شروع کردیا اور ہر وقت امام محمد باقر کا نام لیتے رہتے۔ جب امام زین العابدین علیہ السلام اپنے فرزند امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ تشریف لائے تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ چچا جابر کے سر کا بوسہ دو۔ جابر نے انہیں سینے سے لگا لیا اور کہا کہ “ابن رسول اللہ! آپ کو آپ کے جد نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام فرمایا ہے۔” حضرت نے جواب دیا “اے جابر! ان پر اور تم پر میری طرف سے بھی سلام ہو۔”
عربی متن اور ترجمہ:
روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن عبداللہ انصاری سے فرمایا:
“يَا جَابِرُ، إِنَّكَ سَتَبْقَى حَتَّى تَلْقَى وَلَدِي مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، الْمَعْرُوفَ فِي التَّوْرَاةِ بِبَاقِرٍ، فَإِذَا لَقِيتَهُ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ”
ترجمہ: “اے جابر! تو زندہ رہے گا یہاں تک کہ میرے فرزند محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب سے ملاقات کرے گا، جو تورات میں ‘باقر’ کے نام سے معروف ہے۔ پس جب تو اس سے ملے تو اسے میری طرف سے سلام کہنا۔”
یہ روایت اس بات کی تصحیح کرتی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کی ملاقات امام باقر علیہ السلام سے ہوئی، نہ کہ امام صادق علیہ السلام سے، جیسا کہ الکافی کی مذکورہ روایت میں غلط طور پر بیان کیا گیا ہے۔
الصدوق کی روایات
اگرچہ الصدوق اور الکلینی کے درمیان صرف ایک نسل کا فرق تھا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انہیں الکلینی سے کہیں زیادہ روایات تک رسائی حاصل تھی۔ یہ فرض کرنا مناسب نہیں کہ الکلینی نے ان کی اہمیت کی وجہ سے انہیں نظر انداز کر دیا، بلکہ یہ واضح ہے کہ وہ الکلینی کے لیے دستیاب ہی نہیں تھیں۔
- الفقیہ میں دعا: الصدوق نے “الفقیہ” میں سجدہ شکر کے دوران موسیٰ بن جعفر سے ایک دعا نقل کی ہے جس میں تمام اماموں کے نام مذکور ہیں۔ یہی روایت “الکافی” 3/325 میں اماموں کے ناموں کے بغیر ملتی ہے۔ ایک بار پھر، ہم ایک رجحان دیکھ رہے ہیں۔ بعد کی کتابیں ان احادیث میں اماموں کے نام زبردستی شامل کرتی ہیں جو پہلے اماموں کے ناموں کے بغیر گردش میں تھیں۔
- اکمال الدین کی روایت: “اکمال الدین و تمام النعمۃ” صفحہ 253 پر موجود روایت میں کئی مسائل ہیں۔ پہلا یہ کہ راوی جعفر بن محمد بن مالک الفزاری کو ابن نوح، ابن الولید، خود الصدوق اور النجاشی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن الغضائری نے ان پر روایات گھڑنے کا الزام لگایا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ حدیث الحسن بن محمد بن سماعہ کے ذریعے آئی ہے، جو ایک کٹر واقفی تھا اور بارہ اماموں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ وہ صرف سات پر یقین رکھتا تھا! تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایسی حدیث بیان کرے؟

راوی جعفر بن محمد بن مالک الفزاری کو ضعیف اور ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ ابن نوح نے اسے ضعیف کہا۔ ابن الولید نے بھی اسے ناقابلِ اعتماد قرار دیا۔ خود شیخ صدوق نے بھی اس کی روایت پر اعتماد نہیں کیا۔ النجاشی نے صراحتاً لکھا ہے کہ وہ ضعیف ہے اور اس کی احادیث پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
الخزاز کی روایات
شاید روایات کا سب سے دلچسپ، اور پھر بھی، کم سے کم معتبر مجموعہ الخزاز القمی کے ذریعے آتا ہے، جو ابن بابویہ کے شاگرد تھے۔ یہ روایات ظاہر ہے کہ پہلی نسلوں میں موجود نہیں تھیں اور ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر چند گھڑنے والوں نے تیار کی ہیں۔
- ابو المفضل الشیبانی: پہلا مجرم ابو المفضل محمد بن عبداللہ الشیبانی ہے۔ وہ اکیلے دس روایات بیان کرتا ہے جن میں اماموں کے نام ہیں… ابو المفضل کو النجاشی اور اس کے زمانے کے بیشتر اثناعشری علماء نے ضعیف قرار دیا تھا۔ ابن الغضائری نے ان پر احادیث گھڑنے کا الزام لگایا۔
- علی بن الحسن بن محمد بن مندہ: دوسرا مجرم علی بن الحسن بن محمد بن مندہ ہے جو گیارہ احادیث بیان کرتا ہے… علی بن الحسن کا درجہ نامعلوم ہے۔
معجم رجال الحديث میں سید ابوالقاسم الخوئی نے محمد بن عبد الله الشيباني أبو المفضل کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ حدیث گھڑنے والا (وضّاع) تھا اور ضعیف ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ذکر کیا کہ وہ اکثر منقطع روایات بھی بیان کرتا تھا، یعنی ایسی روایات جن کی سند مکمل طور پر متصل نہ ہو
کتاب كمال الدين وتمام النعمة میں ایک روایت ہے جس میں بیان ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام مسجد میں سلمان فارسی رضی الله عنہ کے ساتھ موجود تھے اور ایک شخص آپ سے امامت کے بارے میں سوال کرنے لگا۔ اس روایت کی سند میں أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ البَرْقِيّ آتا ہے۔ اب رجال کی کتابوں میں احمد بن ابی عبداللہ البرقی کے بارے میں اقوال مختلف ملتے ہیں: 1. الخاجوئی (الرسائل الفقهية، ج1، ص357) عربی متن (خاجوئی):
«أحمد بن أبي عبد الله البرقي ضعيف عندنا»
اردو ترجمہ: “ہمارے نزدیک احمد بن ابی عبداللہ البرقی ضعیف ہیں۔”
2. النجاشی (رجال النجاشی)
عربی متن: أحمد بن محمد بن خالد بن عبد الرحمن بن محمد بن علي البرقي، أبو جعفر، أصله كوفي وانتقل إلى برق، وكان ثقة في نفسه إلا أنّه أكثر الرواية عن الضعفاء واعتمد المراسيل.
اردو ترجمہ:
“احمد بن محمد بن خالد برقی ابو جعفر، کوفہ کے رہنے والے تھے، پھر برق چلے گئے۔ وہ اپنی ذات میں ثقہ تھے لیکن ضعیف راویوں سے بہت زیادہ روایت کرتے تھے اور مراسیل (بغیر سند) پر اعتماد کرتے تھے۔”
3. شیخ طوسی (الفہرست)
عربی متن: له كتب كثيرة، وكان ثقة في نفسه، غير أنه أكثر الرواية عن الضعفاء.
اردو ترجمہ: “ان کی بہت سی کتابیں ہیں، وہ اپنی ذات میں ثقہ تھے مگر ضعیف راویوں سے کثرت سے روایت کرتے تھے۔”
الطوسی کی روایات
پچھلے ماخذوں کے برعکس، ابو جعفر الطوسی، جنہیں شیخ الطائفہ بھی کہا جاتا ہے، بارہ اماموں کی روایات کے اثناعشری نظریے کو متاثر کرنے میں اتنے اہم نہیں تھے۔ ان کی روایات میں بھی گمنام راوی شامل ہیں یا ایسے راویوں کے ذریعے آتی ہیں جن کا درجہ نامعلوم ہے۔
الفضل بن شاذان سے منسوب روایات
گیارہویں صدی میں، ایک کتاب صدیوں تک گم رہنے کے بعد دریافت ہوئی. اس کتاب کا نام “اثبات الرجعۃ” ہے جسے الفضل بن شاذان نے لکھا ہے۔ کتاب میں الفضل (وفات 260 ہجری) سے ان کے اساتذہ، اماموں سے بہت صاف روایات ہیں، اور ان میں بارہ اماموں کے نام درج ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ اسے الحر العاملی نے اپنی “اثبات الهداة” میں نقل کیا ہے اور ان سے پہلے کسی نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مشکوک کام غلطی سے الفضل سے منسوب کیا گیا ہے۔
نتیجہ
ایک ہی حدیث میں بارہ اماموں کے ناموں کے ساتھ کوئی مستند روایت موجود نہیں ہے۔ یہ اثناعشریوں کی ایک بڑی غلط فہمی ہے اور یہ اثناعشریت کی تاریخ کی سطحی سمجھ پر مبنی ہے۔ اصل شیعہ یعنی شیعہ امامیہ اسماعیلیہ کا عقیدہ اس سے مختلف ہے اور تاریخی شواہد بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کہ امامت کا سلسلہ نسل در نسل جاری و ساری ہے۔